مومن کے آنسو: اللہ کے نزدیک سب سے قیمتی موتی

WhatsApp Channel Join Now

مومن کے آنسو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بے حد قیمتی ہوتے ہیں۔ یہ عام آنسو نہیں بلکہ وہ موتی ہیں جن سے ایمان کی چمک پیدا ہوتی ہے۔ جس دل میں اللہ کی محبت ہو، محبوبِ حقیقی کی یاد آتے ہی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ یہی آنسو مومن کی اصل دولت ہیں۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر عشق میں آنسو نہ ہوں تو وہ عشق ادھورا رہ جاتا ہے۔ مومن کے وہ آنسو کتنے قیمتی ہیں جو آنکھ سے نکلیں اور سیدھے اللہ کے حضور مقبول ہو جائیں۔ دعا یہی ہونی چاہیے کہ اللہ ہمیں بھی ایسے آنسو عطا فرمائے جو اس کی رضا کا سبب بن جائیں۔

اللہ کی یاد اور آنسوؤں کا تعلق

جن دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہوتی ہے، ان کی آنکھوں سے آنسو خود بخود بہنے لگتے ہیں۔ محبوب کی یاد آتے ہی آنکھوں کا بھر آنا اس بات کی علامت ہے کہ دل زندہ ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
“خیال آیا ہی تھا کہ آنسو چھلک پڑے
یہ آنسو تیری یاد کے کتنے قریب ہیں”

اسلام کا خیال دل میں آ جائے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں تو یہ اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

آنکھ اور چشمے کی مثال

عربی زبان میں “عین” کا لفظ آنکھ اور چشمے دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دونوں سے پانی نکلتا ہے، مگر فرق بہت بڑا ہے۔
چشمے کے پانی سے دنیا کی کھیتی سرسبز ہوتی ہے، لیکن آنکھ سے نکلنے والے آنسو آخرت کی کھیتی کو سرسبز کرتے ہیں۔
چشمے کا پانی دنیا کی آگ بجھا دیتا ہے، جبکہ مومن کے آنسو جہنم کی آگ کو بجھا دیتے ہیں۔

جو فصل چشمے کے پانی سے اگتی ہے وہ فانی ہے، اور جو فصل آنکھوں کے آنسوؤں سے اگتی ہے وہ ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

جہنم کی آگ سے نجات کا ذریعہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی:
ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی،
اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کے راستے میں رات بھر جاگتی رہی۔”

مومن کے آنسو اتنے بھاری ہوں گے کہ قیامت کے دن تولے بھی نہ جا سکیں گے۔ جو بندہ سچی ندامت کے ساتھ روتا ہے، اسے جہنم کی آگ نہیں جلا سکتی۔

ایک آنسو اور پوری امت کی بخشش

یہ اللہ کی رحمت کا کمال ہے کہ اگر کسی مجلس میں، کسی جماعت میں ایک بندے کی آنکھ سے بھی آنسو نکل آئے تو اللہ تعالیٰ اس ایک آنسو کی برکت سے پوری جماعت پر رحم فرما دیتا ہے۔

حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں:
“روتے ہوئے بندے کا آنسو زمین پر گرنے سے پہلے اللہ اس کے لیے جہنم سے نجات لکھ دیتا ہے۔”

زیادہ ہنسنا اور دل کی موت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ موت کو کثرت سے یاد کرے، کیونکہ یہی یاد آنکھوں میں آنسو اور دل میں نرمی پیدا کرتی ہے۔ قیامت کے دن ہر آنکھ روئے گی، سوائے ان آنکھوں کے جو اللہ کی نافرمانی سے بچی رہیں۔

رونے والی آنکھ کیسے نصیب ہو؟

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ رونے والی آنکھ کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں:

  1. گناہوں سے سچی توبہ
  2. دل میں اللہ اور اسلام کی سچی محبت

جب گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسو جلد نکل آتے ہیں۔ جس دل میں ایمان زندہ ہو، اسے رلانے کے لیے کسی مصنوعی غم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

قبر کا خوف اور آنسو

حضرت عثمان غنیؓ قبر کے پاس کھڑے ہو کر اس قدر رویا کرتے تھے کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔ فرمایا کرتے تھے کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر یہاں نجات نہ ہوئی تو آگے کی منزلیں بہت سخت ہیں۔

آخری نصیحت

ہمیں چاہیے کہ اپنی آنکھوں کو رونے کی عادت ڈالیں اور اپنے دلوں کو سوچنے کا عادی بنائیں۔ اپنے گناہوں پر ندامت کریں، اللہ سے سچی توبہ مانگیں، کیونکہ مومن کے آنسو وہ قیمتی موتی ہیں جو اللہ کے غضب کو رحمت میں بدل دیتے ہیں۔

Leave a Comment