جتنے زیادہ گناہ انسان کرتا ہے، اتنی ہی زیادہ پریشانیاں اس کی زندگی میں آتی ہیں۔ اور جو لوگ گناہوں سے بچتے ہیں، جو اللہ والے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں سکون اور اطمینان عطا فرما دیتے ہیں۔ یاد رکھو، جب انسان گناہ چھوڑ دیتا ہے تو اسے ایسا سکون ملتا ہے جیسے بچے کو ماں کی گود میں ملتا ہے۔
لہٰذا گناہوں کو چھوڑ دو۔ اور گناہ کیا ہے؟ جان بوجھ کر، سمجھ بوجھ کے ساتھ گناہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند یہی بات ہے کہ بندہ علم کے باوجود، سوچ سمجھ کر گناہ کرے۔ اگر لاعلمی میں گناہ ہو جائے تو جلد معاف ہو جاتا ہے، اگر بلا ارادہ ہو جائے تو بھی معافی ہو جاتی ہے، لیکن جان بوجھ کر کیا گیا گناہ اللہ کی ناراضی کو دعوت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حلیم ہیں، فوراً پکڑ نہیں فرماتے۔ اللہ بجلی کی طرح نہیں کہ ایک غلطی پر سزا دے دیں، بلکہ وہ نہایت مہربان، بردبار اور صبر والے ہیں۔ وہ بار بار موقع دیتے ہیں تاکہ بندہ سنبھل جائے۔
جب بندہ بار بار موقع ملنے کے باوجود نہیں سنبھلتا تو اللہ تعالیٰ مشکلات بھیج دیتے ہیں۔ یہ مشکلات بندے کو جگانے کے لیے ہوتی ہیں۔ کسی دانا نے خوب کہا ہے: خوشی انسان کو سلا دیتی ہے اور غم انسان کو جگا دیتا ہے۔
اسی لیے اللہ بیماری، نقصان، پریشانیاں بھیجتے ہیں۔ نیک لوگ ان مشکلات کو اللہ کی طرف سے بلاوا سمجھتے ہیں، اور اپنی عبادت، دعا، ذکر اور توبہ میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ ہمیں اپنی طرف بلانا چاہتے ہیں۔
پاک ہے وہ رب جو اپنے بندوں کو مشکلات کی زنجیروں سے باندھ کر اپنی طرف کھینچتا ہے۔ لیکن افسوس! بعض لوگ جاگنے کے بجائے مزید گناہوں میں پڑ جاتے ہیں۔ کاروبار نقصان میں جائے تو سود کا سہارا لیتے ہیں، جو اور زیادہ تباہی کا سبب بنتا ہے۔
اصول یہ ہے: اللہ کی نافرمانی ذلت، پریشانی، ناکامی اور رسوائی لے کر آتی ہے۔ اور گناہوں کو چھوڑ دینا عزت، سکون اور کامیابی کا سبب بنتا ہے — دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کھلے اور چھپے ہر طرح کے گناہ چھوڑ دو۔ اگر گناہ نہیں چھوڑو گے تو پریشانیاں نہیں چھوڑیں گی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
یہ بات یاد رکھو: جو بندہ جان بوجھ کر گناہ چھوڑ دیتا ہے، اللہ اس کی دعاؤں کو رد نہیں فرماتے۔ ایسا شخص مستجاب الدعوات بن جاتا ہے۔
سب سے بڑی عبادت گناہ چھوڑنا ہے۔ پھر دیکھو اللہ کیا عطا فرماتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جو بندہ حرام سے نظر جھکا لیتا ہے، اللہ اس کے دل میں عبادت کی مٹھاس ڈال دیتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں ہمیں عبادت میں مزہ نہیں آتا۔ یاد رکھو، ہم بندے ہیں، مزہ تلاش کرنے والے نہیں۔ عبادت کرنا فرض ہے، چاہے لذت ملے یا نہ ملے۔ اگر اللہ مٹھاس عطا کر دیں تو یہ ان کا فضل ہے، ہمارا حق نہیں۔
اگر ہم گناہ چھوڑ دیں تو اللہ ہماری زندگیوں سے پریشانیاں ختم کر دیتے ہیں۔
یہ سوال آتا ہے کہ نیک لوگوں پر بھی مشکلات آتی ہیں؟ ہاں، آتی ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ گناہگار پر مشکل سزا یا تنبیہ کے طور پر آتی ہے، اور نیک پر درجات کی بلندی کے لیے۔
اللہ والوں کے دل مشکلات میں بھی مطمئن رہتے ہیں۔ باہر طوفان ہو، اندر سکون ہوتا ہے۔
جب بندہ جاگانے کے باوجود نہ جاگے تو پھر اللہ کی ناراضی آتی ہے، اور وہ بندہ دوسروں کے لیے عبرت بنا دیا جاتا ہے۔
جھوٹ، فریب، دوہرا پن — یہ سب گناہ انسان کو جکڑ لیتے ہیں۔ انسان لوگوں سے چھپ سکتا ہے، اللہ سے نہیں۔
اسی لیے روحانیت کی پہلی سیڑھی سچی توبہ ہے۔ گناہ چھوڑے بغیر ذکر اور عبادت کا اثر نہیں ہوتا، جیسے دوا کے ساتھ برف کا پانی پینا۔
شیطان دو راستوں سے بہکاتا ہے:
- خواہشات کے ذریعے
- شکوک و شبہات کے ذریعے
ان دونوں کا علاج سچی توبہ ہے۔
اگر بندہ بار بار گناہ کرے مگر ہر بار سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ معاف فرما دیتے ہیں۔ گر جانا ناکامی نہیں، گرے رہنا ناکامی ہے۔
اللہ ماں سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ ماں آنسو دیکھ کر معاف کرتی ہے، اللہ آنسو کے بغیر بھی معاف فرما دیتے ہیں، بس دل میں ندامت ہونی چاہیے۔
جو بندہ کہتا ہے: اے اللہ! تیرے سوا میرا کوئی نہیں — اللہ اس کے لیے معافی کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
اللہ معاف کرنا پسند فرماتے ہیں، اور معاف کر کے خوش ہوتے ہیں۔
لہٰذا سچی توبہ کرو، تنہائی میں اللہ سے معافی مانگو، اور آج یہ فیصلہ کرو کہ گناہوں سے پاک زندگی گزارنی ہے۔ پھر دیکھو اللہ کی رحمت کیسے زندگی بدل دیتی ہے۔
اللہ ہمیں سچی توبہ نصیب فرمائے۔
والحمد للہ رب العالمین