عقل و فہم کی طاقت: انسان کو بلندی تک پہنچانے والی نعمت

WhatsApp Channel Join Now

اللہ رب العزت نے انسان کو جو سب سے بڑی نعمت عطا فرمائی ہے، وہ عقل و فہم ہے۔ صاحبِ عقل انسان کی سوچ وہاں تک پہنچتی ہے جہاں عام آدمی کی سوچ نہیں پہنچ پاتی۔ دانا اور سمجھدار انسان عام گفتگو میں بھی ایسی بات کہہ جاتا ہے کہ دوسرا حیران رہ جاتا ہے۔ تاریخ، علم اور دینی روایات اس حقیقت سے بھری پڑی ہیں کہ عقل انسان کو عزت، مقام اور کامیابی تک لے جاتی ہے۔

دانائی کی مثال: شاعر انوری اور بادشاہ کا گھوڑا

ایک مشہور شاعر انوری کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ بادشاہ نے اسے انعام میں ایک گھوڑا دیا۔ انوری گھوڑا گھر لے آیا، مگر اللہ کی شان کہ وہ گھوڑا رات ہی میں مر گیا۔ اگلے دن جب انوری دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے گھوڑے کا حال پوچھا۔

اگر انوری سیدھا کہہ دیتا کہ گھوڑا مر گیا ہے تو بادشاہ ناراض ہو سکتا تھا، لیکن اس نے دانائی سے شعر میں جواب دیا کہ بادشاہ نے ایسا تیز رفتار گھوڑا عطا کیا تھا جو ایک ہی رات میں آخرت پہنچ گیا۔ بادشاہ اس حاضر جوابی سے خوش ہوا اور انعام میں ایک اور گھوڑا دے دیا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ عقل مند انسان مشکل بات بھی خوبصورتی سے کہہ جاتا ہے۔

نکاح کی حقیقت: چند لفظوں میں پوری زندگی

ایک شخص نے ایک بزرگ سے پوچھا:
“نکاح کیا چیز ہے؟”

بزرگ نے نہایت مختصر مگر گہرا جواب دیا:

  • ایک مہینے کی خوشی
  • مہر کی ذمہ داری
  • ساری عمر کی فکر
  • اور پھر کمزوری و بڑھاپا

یہ جواب سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ عقل مند انسان چند جملوں میں پوری حقیقت بیان کر دیتا ہے۔

یادداشت اور عقل: تفسیر جلالین کی مثال

تفسیر جلالین دو بزرگوں نے لکھی:

  • امام جلال الدین سیوطیؒ
  • امام جلال الدین محلیؒ

طلبہ اکثر بھول جاتے ہیں کہ کس نے کون سا حصہ لکھا۔ مگر ایک نہایت آسان نکتہ بتایا گیا:

  • سیوطی (سین) → پہلے
  • محلی (میم) → بعد میں

یوں سیوطیؒ نے پہلے 15 پارے اور محلیؒ نے باقی تفسیر لکھی۔
یہی عقل ہے کہ مشکل چیز کو آسان بنا دے۔

معراج اور انبیاءؑ کے نام یاد رکھنے کا نکتہ

نبی کریم ﷺ کی معراج کے موقع پر سات آسمانوں پر مختلف انبیاءؑ سے ملاقات ہوئی۔ ان سات ناموں کو یاد رکھنا مشکل لگتا ہے، مگر ایک لفظ بنا دیا گیا:

“آیا ہُما”

  • آدمؑ
  • عیسیٰؑ
  • یحییٰؑ
  • ادریسؑ
  • ہارونؑ
  • موسیٰؑ
  • ابراہیمؑ

ایک لفظ نے سات نام یاد کرا دیے—یہی عقل کا کمال ہے۔

عربی پڑھنے والے طلبہ اور ذہانت

یہ عام تاثر ہے کہ عربی پڑھنے والے طلبہ ذہین نہیں ہوتے، مگر تاریخ اس کے برعکس گواہ ہے۔
حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کے مدرسے میں ایک انگریز آیا اور کہنے لگا کہ عربی کے بجائے انگریزی اور سائنس پڑھائیں۔

حضرتؒ نے اس کے بیٹے سے پوچھا:
“اس تالاب میں کتنے پیالے پانی ہیں؟”

انگریز کا بیٹا خاموش ہو گیا، جبکہ مدرسے کے طالب علم نے عقلی جواب دیا:
“اگر پیالہ تالاب جتنا ہو تو ایک، اور اگر آدھا ہو تو دو پیالے۔”

یہ جواب سن کر سب پر واضح ہو گیا کہ اصل ذہانت عقل کے استعمال میں ہے، زبان میں نہیں۔

مناظرے اور حاضر جوابی: عقل کی پہچان

ایک دہریہ عالم سے بحث کر رہا تھا کہ اللہ موجود نہیں۔ عالم نے اس کی بات سن کر ایسا جواب دیا کہ وہ خاموش ہو گیا۔ اسی طرح کئی واقعات میں دیکھا گیا کہ عقل مند انسان سوال کا ایسا جواب دیتا ہے کہ سامنے والا لاجواب ہو جاتا ہے۔

ساد اللہ خان: عقل نے غریب کو وزیر بنا دیا

شاہ جہاں کے دور میں ساد اللہ خان ایک غریب طالب علم تھے۔ ان کی ذہانت نے انہیں:

  • مدرس
  • لائبریری انچارج
  • مرغی خانے کا نگران
    اور آخرکار وزیرِ اعظم بنا دیا۔

انہوں نے بغیر خرچ کے وسائل کو استعمال کر کے مسائل حل کیے۔ حتیٰ کہ ایران کے بادشاہ کی دھمکی آمیز چٹھی کا ایسا عقلی جواب لکھا کہ جنگ ٹل گئی۔

نتیجہ: عقل انسان کا سب سے بڑا ہتھیار

یہ تمام واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ:

  • عقل اللہ کی عظیم نعمت ہے
  • سمجھدار انسان ہر مرحلے پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے
  • علم + عقل = کامیابی
  • عقل کے بغیر علم ادھورا ہے

جو شخص عقل کا صحیح استعمال کرتا ہے، اللہ اسے عزت، بلندی اور مقام عطا فرماتا ہے۔

Leave a Comment