تمہید
الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، سیدنا محمد ﷺ، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سکھایا ہے۔ ہوا سے فائدہ الگ ہے، پانی سے الگ، آگ اور مٹی سے فائدہ الگ۔ لیکن ایک اہم سوال دل میں پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ سب چیزیں مخلوق ہیں تو خالقِ کائنات، اللہ رب العزت سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ کیا ہے؟
اسی سوال کا جواب دینے کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے اور انہوں نے انسان کو سکھایا کہ اگر تم اللہ کی ذات سے حقیقی فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اس کا ایک خاص طریقہ ہے، اور وہ ہے دعا۔
دعا کیا ہے؟
دعا دراصل اللہ کے دربار میں اپنی حاجت پیش کرنے کا نام ہے۔
یوں سمجھ لیں کہ دعا اللہ کے حضور ایپلیکیشن جمع کروانے کا عمل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کا طریقہ اس قدر واضح فرما دیا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں طریقہ معلوم نہیں تھا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
“الدعاء مخ العبادة”
یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
“الدعاء هو العبادة”
دعا ہی اصل عبادت ہے۔
دعا اور دیگر اعمال میں بنیادی فرق
عبادات کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر نیت دنیا کی ہو تو وہ عبادت نہیں رہتیں۔
مثال کے طور پر:
- اگر کوئی شخص بھوکا رہے مگر نیت روزے کی نہ ہو تو اسے روزے کا ثواب نہیں ملتا۔
- اگر کوئی شخص دکھاوے کے لیے صدقہ دے تو اس کا اجر ضائع ہو جاتا ہے۔
لیکن دعا ایک ایسی عبادت ہے کہ بندہ اگر خالص دنیا کی حاجت بھی مانگے تب بھی وہ عبادت شمار ہوتی ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی خاص شانِ کریمی ہے۔
دعا کے دروازے کھلنا کیا معنی رکھتا ہے؟
حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
جس شخص کے لیے دعا کے دروازے کھل گئے، اس کے لیے اللہ کی رحمت کے دروازے کھل گئے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
تقدیر کو کوئی چیز نہیں بدلتی سوائے دعا کے۔
بعض اوقات انسان گناہوں کی وجہ سے رزق یا آسانیوں سے محروم ہو جاتا ہے، اور پھر وہ اسے تقدیر کا شکوہ سمجھتا ہے، حالانکہ قرآن کہتا ہے:
“تم پر جو مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے”
دعا مصیبت کو کیسے روکتی ہے؟
نبی ﷺ نے فرمایا:
دعا اس مصیبت کے لیے بھی فائدہ مند ہے جو آچکی ہو، اور اس کے لیے بھی جو ابھی آنی ہو۔
حتیٰ کہ حدیث میں آیا ہے کہ:
بلا نازل ہوتی ہے اور بندے کی دعا اس بلا کو قیامت تک دھکیلتی رہتی ہے۔
اللہ سے نہ مانگنے کا نقصان
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو اللہ سے دعا نہیں مانگتا، اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔
دنیا کے لوگوں سے بار بار مانگو تو وہ تنگ ہو جاتے ہیں،
لیکن اللہ کی شان یہ ہے کہ:
- ایک بار مانگو، دے دیتا ہے
- سو بار مانگو، تب بھی عطا کرتا ہے
- ہر حال میں مانگو، تو اللہ بندے کو اپنا ولی بنا لیتا ہے
دعا کن صورتوں میں قبول ہوتی ہے؟
اللہ تعالیٰ دعا کو تین میں سے کسی ایک صورت میں ضرور قبول فرماتا ہے:
- جو مانگا ہو، وہی عطا کر دیا جاتا ہے
- اس کے بدلے کوئی بڑی مصیبت ٹال دی جاتی ہے
- آخرت کے لیے اجر محفوظ کر لیا جاتا ہے
قیامت کے دن بندہ دیکھے گا تو کہے گا:
کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی، سب اجر آخرت میں ملتا۔
دعا کے رد ہونے کی وجوہات
کچھ چیزیں دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بنتی ہیں، مثلاً:
- حرام کھانا، حرام لباس، حرام کمائی
- یہ کہنا کہ “میری دعا تو قبول ہی نہیں ہوتی”
یہ جملہ اللہ کو سخت ناپسند ہے۔
خوشحالی میں دعا مانگنے کی اہمیت
نبی ﷺ نے فرمایا:
جو چاہتا ہے کہ سختی میں اس کی دعا قبول ہو، وہ خوشحالی میں دعا مانگے۔
اکثر لوگ مصیبت میں ہی روتے ہیں، لیکن اصل عقل یہ ہے کہ نعمت کے وقت بھی دعا جاری رکھی جائے۔
دعا کے آداب (قبولیت کے سنہری اصول)
دعا کے چند اہم آداب یہ ہیں:
- حلال کھانا، پہننا اور کمانا
- اخلاص کے ساتھ دعا
- وضو، قبلہ رخ ہونا
- دو رکعت نفل
- ابتدا و انتہا درود شریف سے
- عاجزی، گریہ، یقین کے ساتھ مانگنا
- بار بار دعا کرنا
- ناممکن اور گناہ کی دعا نہ مانگنا
- اپنی تمام چھوٹی بڑی حاجات اللہ سے مانگنا
دعا کی قبولیت کے خاص اوقات
کچھ اوقات ایسے ہیں جب دعا جلد قبول ہوتی ہے، مثلاً:
- شبِ قدر
- جمعہ کا دن اور خاص طور پر عصر و مغرب کے درمیان
- آدھی رات اور آخری تہائی
- سحری کا وقت
- اذان اور اقامت کے درمیان
- سجدے کی حالت
- بارش کے وقت
- افطار کے وقت
- سفر کی حالت
کن لوگوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے؟
- مظلوم کی دعا
- والدین کی دعا
- مسافر کی دعا
- روزہ دار کی دعا
- بیمار کی دعا
- وہ بندہ جس کا دل ٹوٹا ہوا ہو
گناہگار بھی دعا کر سکتا ہے
کبھی یہ نہ سوچیں کہ میں بہت گناہگار ہوں، میری دعا قبول نہیں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے شیطان کی دعا بھی قبول فرمائی، تو بندہ اگر سچے دل سے مانگے تو اللہ ضرور سنتا ہے۔
اصل شرط یہ ہے کہ:
- دل اللہ کی طرف متوجہ ہو
- زبان عاجزی سے مانگے
- آنکھوں میں آنسو ہوں
نتیجہ
دعا مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
یہی سب سے بہتر تدبیر ہے، سب سے مضبوط سہارا ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں صحیح طریقے سے، مکمل یقین اور اخلاص کے ساتھ دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری تمام جائز حاجات کو اپنی رحمت سے قبول فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔